English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرپشن مقدمات: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے نیتن یاہو کی معافی کی اپیل پر مزید تفصیلات مانگ لیں

القمر

اسرائیل میں سیاسی و قانونی محاذ پر ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صدر آئزک ہرزوگ  نے بدعنوانی کے مقدمات میں گھِرے وزیرِاعظم  بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے دائر کی گئی معافی کی درخواست کو فوری طور پر منظور کرنے کے بجائے مزید غور و خوض کے لیے وزارتِ انصاف کو واپس بھجوا دیا ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر نے حتمی رائے قائم کرنے سے قبل اضافی قانونی مواد اور ماضی کی نظیروں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ چونکہ معاملہ زیرِ سماعت ہے، اس لیے ایسے حالات میں معافی کے اختیار کے استعمال سے متعلق سابقہ مثالوں کا بغور مطالعہ ناگزیر ہے، خصوصاً جب کیس میں سفارتی اور سلامتی سے جڑے پہلو بھی شامل ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ درخواست واپس بھیجنے کا مقصد کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مکمل اور غیر جانبدارانہ قانونی جانچ پڑتال کو یقینی بنانا ہے، اس پیش رفت کو کسی حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ محض ایک پیشہ ورانہ عمل کا حصہ ہے جس کے تحت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے نیتن یاہو سے متعلق بدعنوانی کے الزامات پر مبنی ایک دستاویزی فلم اپنے چینل پر جاری کر دی ہے۔ اس فلم میں اسرائیلی پولیس کی تحقیقات کے دوران ریکارڈ کی گئی ایک ہزار سے زائد آڈیو ریکارڈنگز کو بنیاد بنایا گیا ہے، جنہیں کیس کے اہم شواہد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ یہ دستاویزی مواد عالمی سطح پر زیرِ بحث آ رہا ہے، تاہم اسرائیل کے اندر اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے باعث اس کی اشاعت اور رسائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی حساس رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے