کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کا مستقل حل اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کیا جائے اور حقیقی معنوں میں عوام کا حق حکمرانی بحال کیا جائے۔
گلشن حدید میں جماعت اسلامی کی فیملی عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ ملک میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لیے جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور آمریت پر مبنی نظام سے نجات حاصل کرنا ناگزیر ہے، جب تک ایک منصفانہ اور شفاف نظام نافذ نہیں ہوتا، عوامی مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
ڈاکٹر اسامہ رضی نے بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے عزائم کھل کر ظاہر کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں پاکستان بھی شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوری حکومت موجود نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص طبقے کو اقتدار میں لایا گیا ہے جو بغیر مؤثر جواب دہی کے نظام چلا رہا ہے۔
انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بڑی طاقت کے سامنے اس لیے ڈٹا ہوا ہے کیونکہ اس کا داخلی نظام مضبوط ہے اور وہاں عوام کی شرکت پر مبنی حکمرانی موجود ہے۔
ڈاکٹر اسامہ رضی نے افغانستان کے حوالے سے پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا کہ افغانستان دشمن ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
