English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشکل وقت میں کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، مزید ریلیف دیا جائے گا: وزیراعظم

القمر

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت کمزور اور متوسط طبقے کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ملک میں ایندھن کے موجودہ ذخائر، عوامی ریلیف اقدامات اور حکومتی سادگی مہم پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں ایندھن بچت اقدامات اور حکومتی اخراجات میں کمی کے حوالے سے پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی پیشگی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بھی بتایا گیا کہ ملک میں ضروری ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔

حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بڑی گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے کے باوجود جیٹ فیول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس سے ہوابازی کے شعبے کو استحکام حاصل رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں قربانی کا آغاز حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی سے کیا ہے، جس کے تحت سرکاری اخراجات کم کیے گئے، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو متعدد بار مسترد کیا گیا اور بچت اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ریلیف اقدامات کو براہ راست عام آدمی تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت معاشی طور پر کمزور طبقات کو ہر ممکن سہارا فراہم کرے گی اور بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنے دی گئی، پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی محاذ پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے