تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک بڑی عسکری کارروائی کے دوران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جدید میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کو آپریشن وعدہ صادق 4 کا نام دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ اس حملے کا بنیادی مقصد دشمن کی عسکری قوت کو کمزور کرنا اور خطے پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کارروائیوں کو حزب اللہ کے شہدا سے منسوب کیا گیا ہے اور اسے ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی قرار دیا ہے۔
ان تازہ حملوں میں عماد، خرم شہر 4اور قدر نامی جدید میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے مختلف شہروں بشمول بیرشیبا، الجلیل، نقب اور تل نوف ایئر بیس کے علاوہ بنی براک میں ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر امریکی اڈوں پر بھی تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔ ان میں علی السلیم ایئر بیس، ال دفرہ اور وکٹوریا بیس شامل ہیں، جہاں ڈرونز اور گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
حکام نے کہا کہ ان کارروائیوں میں جدید ترین حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مزاحمتی محاذ اب جنگ کا دائرہ کار مرحلہ وار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حملے خطے میں موجود فوجی توازن کو تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان کا طویل المدتی ہدف خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی طاقت کو مکمل طور پر کمزور کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد مستقبل میں اپنے اسٹریٹجک مقاصد کا حصول یقینی بنانا ہے، جس کے لیے وہ مسلسل عسکری دباؤ برقرار رکھیں گے۔
دوسری جانب ایرانی کارروائی کے بعد اسرائیل بھر میں حملوں کے دوران سائرن بجتے رہے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
تہران نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کرنے کے لیے کی گئی ہیں، جو مستقبل میں مزید پیچیدہ صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
