نئی دہلی: مودی سرکار کی اسرائیل نوازی کے نتیجے میں بھارت نئے بحرانوں کے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی حالات کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی پرچم بردار تجارتی جہاز محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان جہازوں میں خام تیل، ایل پی جی اور ایل این جی کی بڑی کھیپیں لدی ہوئی ہیں جو بھارت کی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
بھارتی حکام نے اس سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ان 18 جہازوں کے علاوہ 10 غیر ملکی پرچم والے جہاز بھی موجود ہیں جو بھارت کے لیے ایندھن کی ترسیل کے کام پر مامور تھے۔ یہ جہاز اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اب سخت ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا لازمی ہو گا۔ صرف ان ممالک کے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے گی جو ایرانی حکام کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اور رابطے میں رہیں گے، جس سے بھارتی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا تجارتی راستہ مفلوج ہونے سے بھارت میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ اہم بحری راستہ طویل عرصے سے عالمی تجارت کی شہ رگ رہا ہے اور اس کا بند ہونا بھارت سمیت کئی ممالک کے لیے تشویشناک ہے۔
بھارت کی اسرائیل نواز پالیسیوں اور خطے میں غیر مؤثر سفارتی حکمت عملی کو اس بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو بھارت کو ایندھن کی شدید قلت اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے ملکی معیشت متاثر ہوگی۔
جنگ سے متاثرہ یہ علاقہ اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے باہر کے سمندری راستے بھی ہائی رسک قرار دے دیے گئے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال نے بھارتی حکومت کے لیے چیلنجز بڑھا دیے ہیں جبکہ تجارتی حلقے بھی ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث سخت پریشان ہیں۔
