English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئی ایم ایف کی سخت شرائط، پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مہنگا ہونے کا خدشہ

القمر

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایف بی آر کو محصولات میں 16 سو ارب روپے سے زائد کا اضافہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے پیٹرول سمیت تمام ایندھن پر جی ایس ٹی کی شرح صفر سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی طرح سولر سسٹم کے استعمال پر بھی 18 فیصد ٹیکس لگانے اور نئے گھروں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر بھی اب اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس ہدف میں کمی کے باوجود ایف بی آر کو بڑے شارٹ فال کا سامنا ہے جس کے باعث معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ درآمدات میں کمی اور مہنگے تیل کے باعث کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ ادارے نے خسارے کو پورا کرنے کے لیے سپر ٹیکس اور سرچارج کی وصولی پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ کی تیاری سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔ ان مذاکرات میں معاشی استحکام کے لیے مزید سخت اقدامات یا ٹیکس چھوٹ کے خاتمے جیسے اہم معاملات پر حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے