English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جا سکتی، سابق ایرانی وزیر خارجہ کا برادرممالک کو پیغام

القمر

تہران : ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے خلیج فارس میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی بیرونی ذرائع سے خریدی نہیں جا سکتی اور بیرونی فوجی اڈے استحکام نہیں بلکہ جنگ کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔

جواد ظریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں کہا کہ خلیج تعاون تنظیم کے متعدد ممالک نے گزشتہ پچاس سالوں سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کی فروخت کی ہے۔ انہوں نے تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1980 سے 1988 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران مالی امداد فراہم کی گئی، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کی گئیں اور 1990 سے 1992 کے دوران کویت پر صدام کی مداخلت میں مدد دینے کے بعد ایران پر کشیدگی برقرار رکھی گئی۔

سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 2001 سے 2015 تک ایران کے خلاف متعدد پالیسیاں اپنائی گئیں، امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کی گئیں اور ایران کے خلاف جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایرانی عوام کی معیشت متاثر ہوئی جبکہ ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے 2019 میں ہرمز امن معاہدے کے مسترد ہونے اور ایران پر پابندیوں کے نفاذ کا حوالہ بھی دیا، جس کے باعث آبنائے ہرمز ایران کے لیے مؤثر طور پر بند ہو گیا۔

جواد ظریف نے کہا کہ خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ میں دیگر اتحادیوں سے بڑھ کر مدد فراہم کی، تاہم انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے لیکن ایران ہمیشہ قائم رہے گا اور سیکیورٹی سب کے لیے ضروری ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے