اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکوں کی جانب سے صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پر ٹیلی کام کمپنیوں کی بھاری وصولیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد بڑھتی قیمتوں کی وجوہات جان کر عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں بینکنگ ایسوسی ایشن اور اسٹیٹ بینک کے حکام نے شرکت کی۔ بینک آف پنجاب کے صدر نے بتایا کہ بینک صارفین سے ریگولیٹری اور اختیاری دو طرح کے چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔ ریگولیٹری چارجز اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ 2021 سے اب تک ایس ایم ایس چارجز میں 88 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے ایس ایم ایس سروس کے لیے مقررہ نرخوں سے 5 گنا زیادہ وصول کر رہی ہیں۔ سال 2021 میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت 48 پیسے تھی جو اب 3 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بینکوں نے صارفین سے مجموعی طور پر 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے، جبکہ اس کے مقابلے میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی پڑی۔ اس طرح بینکوں کو تقریباً 7 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کرنا پڑا۔
اسٹیٹ بینک حکام نے واضح کیا کہ لازمی نوعیت کے پیغامات پر صارفین سے فیس نہیں لی جاتی۔ بینکوں پر لازم ہے کہ وہ ایس ایم ایس سروس کے چارجز کے بارے میں صارفین کو شفاف معلومات فراہم کریں۔ مختلف ٹیلی کام کمپنیاں جن میں جاز، یوفون، زونگ اور ایس سی او شامل ہیں، اربوں روپے کی وصولی کر رہی ہیں۔
کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں سے طلب کردہ تفصیلات کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ایس ایم ایس سروس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روک کر بینک صارفین کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔
حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر جامع رپورٹ جلد پیش کریں۔
