برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ممالک، جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے، تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نئی پائپ لائنز بنانے اور موجودہ نیٹ ورک کو وسعت دینے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً متاثر ہو چکی ہے، جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ گئی ہے۔ متبادل پائپ لائن نیٹ ورکس کا مقصد تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر انحصار کم کرنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کے پاس پہلے ہی”ایسٹ۔ویسٹ”پائپ لائن موجود ہے، جو مشرقی آئل فیلڈز سے تیل کو مغربی ساحل پر بحیرہ احمر تک پہنچاتی ہے۔ یہ نظام اس بات کی عملی مثال ہے کہ زمینی راستے کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ مستقبل میں ایسے منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے تیل کے ذخائر کو براہ راست بحیرہ احمر یا بحیرہ روم کی بندرگاہوں سے جوڑا جا سکے۔
تاہم فنانشل ٹائمز کے مطابق ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں بھاری مالی اخراجات، سیاسی پیچیدگیاں، مختلف ممالک کے درمیان ہم آہنگی، اور طویل تعمیراتی مدت جیسے چیلنجز شامل ہیں۔
اس کے باوجود، خلیجی ممالک اسے ایک طویل مدتی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ کسی بھی بحران کی صورت میں عالمی منڈیوں تک تیل کی فراہمی کو جاری رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی”ایسٹ۔ویسٹ۔ آئل پائپ لائن، جو تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ہے اور 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، آج بھی روزانہ لاکھوں بیرل تیل کو ینبع کی بندرگاہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یوں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
