امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق خطاب پر پہلا بین الاقوامی ردعمل سامنے آ گیا، جہاں چین نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے جڑی جنگی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی ذرائع کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتے اور کشیدگی میں فوری کمی لانا ضروری ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے “فوری خاتمے” کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس تنازع کے مزید پھیلاؤ سے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریقین مل کر صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکیں اور اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے خطاب میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکی ہے، اور انہوں نے ایران کو شدید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے اسے “پتھر کے زمانے میں واپس لے جانے” کا عندیہ دیا تھا۔
