ماسکو: روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران سے متعلق تنازع کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے جبکہ صدر ولادیمیر پیوٹن مختلف عالمی و علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران سے متعلق تنازع کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے،پیوٹن اس حوالے سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر روسی خدمات درکار ہوئیں تو ماسکو امن کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب ولادیمیر پیوٹن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مؤثر سیاسی اور سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے فوری جنگ بندی اور تنازع کے پائیدار حل کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
کریملن کے مطابق روس نے امریکا اور اسرائیل سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے روسی عملے کے انخلا کے دوران جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔
روس کی سرکاری جوہری کارپوریشن کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ عملے کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ ممالک کو قافلے کی نقل و حرکت سے آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ انخلا کے آخری مرحلے میں تقریباً 200 افراد شامل ہیں جن کی واپسی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ واضح رہے کہ روس نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر ری ایکٹر کی تعمیر کی تھی اور وہاں روسی ماہرین اضافی یونٹس پر کام کر رہے ہیں۔
