جامعہ الازہر نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کو قانونی جواز دینے کی ایک فریب کاری قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ الازہر کی مجلسِ کبار علماء کو، جیسے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند افراد کو، اس قانون کی منظوری پر شدید صدمہ پہنچا ہے، جو فلسطینی قیدیوں کے قتل کی اجازت دیتا ہے اور صہیونی ریاست کے ظلم، دہشت گردی اور جارحیت کو مزید بڑھانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل جنگیں بھڑکانے، ممالک کو تباہ کرنے، انسانی اقدار کو روندنے اور بچوں، خواتین، بزرگوں سمیت نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے ذریعے فلسطینی کاز کو ختم کرنے کے اپنے مجرمانہ منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
مزید کہا گیا کہ یہ قانون فلسطینیوں کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے اور ان کی نسلی صفائی کو قانونی شکل دیتا ہے، جبکہ گزشتہ 77 برسوں سے فلسطینی عوام کو ان کے حقِ واپسی اور آزاد وطن کے مطالبے سے خاموش کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
الازہر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے جرائم کو قانونی رنگ دینے کے لیے یہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی اسے معصوم لوگوں کے قتل اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی قیدیوں کے قتل کو قانون کا درجہ دینا دراصل درندگی اور جنگل کے قانون کو فروغ دینا ہے، جو تمام انسانی اقدار اور بین الاقوامی معاہدوں کے منافی ہے۔
الازہر نے خبردار کیا کہ اگر اس قانون پر عملدرآمد کیا گیا تو یہ عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور بین الاقوامی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آخر میں مجلسِ کبار علماء نے تمام عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہوں، اپنی سیاسی اور سفارتی قوت استعمال کریں، اس ظلم کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھائیں تاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ اسرائیل کے تمام تر اقدامات کے باوجود حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ فلسطین ایک مقبوضہ عرب و مسلم ریاست ہے اور وہ ایک دن ضرور آزاد ہوگا، ان شاء اللہ۔
