پاکستان میں اس وقت عام شہری شدید مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا نمایاں اضافہ عوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنا ہے، اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت کا 458.41 روپے تک پہنچ جانا عام آدمی کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن گیا ہے، تاہم اس تشویشناک صورتحال کے باوجود حکومت نے ایک معمولی سی امید کی کرن بھی دکھائی ہے جہاں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے ایک مجوزہ ریلیف پروگرام سامنے آیا ہے جس کے تحت شرائط پوری کرنے والے افراد کو 100 روپے تک رعایت دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست گزار کا موٹر سائیکل اس کے اپنے نام پر رجسٹر ہونا لازمی ہوگا، جبکہ درست اور قابلِ تجدید ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا بھی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے۔
مزید شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ درخواست دہندہ حفاظتی تدابیر کے تحت ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائے اور متعلقہ ایکسائز آفس سے باضابطہ تصدیقی لیٹر حاصل کرے جس میں یہ ثابت ہو کہ مذکورہ موٹر سائیکل اس کی ملکیت ہے۔ اسی طرح قومی ڈیٹا بیس کے ادارے سے شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا کا ویری فکیشن لیٹر بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
پروگرام کے تحت یہ بھی شرط عائد کی گئی ہے کہ درخواست گزار کے نام پر کوئی غیر منقولہ جائیداد موجود نہ ہو۔ اسی طرح خاندانی حیثیت کے حوالے سے یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ یونین کونسل میں کم از کم پانچ سے چھ بچوں کی رجسٹریشن موجود ہو۔
مزید برآں، درخواست دہندہ کے کردار کی جانچ کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا جس میں اس بات کی تصدیق ہو کہ اس کا کسی بھی قسم کے لڑائی جھگڑے یا مجرمانہ سرگرمیوں کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ دو ایسے گواہ بھی فراہم کرنا ہوں گے جو درخواست گزار کے قریبی رشتہ دار نہ ہوں، تاکہ تصدیقی عمل مزید شفاف بنایا جا سکے۔
مجوزہ طریقہ کار کے مطابق درخواست دہندہ کو اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کم از کم دو روز قبل جمع کرانا ہوگی، جس کے بعد ایک ہفتے کے اندر متعلقہ لیٹر جاری کیا جائے گا۔ اس لیٹر کی بنیاد پر موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہری مخصوص رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
