English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پیرس میں مسلمانوں کے سالانہ اجتماع پر سیکیورٹی خدشات کے نام پر پابندی عائد

القمر

پیرس: فرانسیسی حکام نے سیکیورٹی خدشات کا جواز پیش کرتے ہوئے پیرس میں مسلمانوں کے 40 ویں سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع ممکنہ طور پر امن و امان کی صورتحال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کی خصوصی درخواست پر پولیس چیف پیٹرس فاؤر نے 3 سے 6 اپریل تک لے بورژے ایگزیبیشن سینٹر میں ہونے والے اس بڑے اجتماع کو منسوخ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے جس پر انتظامیہ نے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور بدامنی کے خدشات کی وجہ سے سڑکوں پر پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا چکی ہے اور سخت نگرانی جاری ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فرانس میں حساس مقامات کی سیکیورٹی میں اضافے کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بینک آف امریکا کے دفاتر پر بم حملے کی ناکام کوشش کے بعد سے فرانس بھر میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

اس معاملے پر اجتماع کا انتظام کرنے والے ادارے کے سربراہ مخلوف مامیچ نے پابندی کے حکم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی حکومت کا یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے، لہٰذا ان کی تنظیم اس پابندی کے خلاف عدالت میں باقاعدہ قانونی اپیل دائر کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ سالانہ اجتماع فرانسیسی مسلمانوں کے لیے ایک اہم مذہبی اور ثقافتی تقریب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب تمام تر نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ عدالت اس معاملے پر کیا فیصلہ سناتی ہے اور کیا حکومت اپنے موقف پر قائم رہتی ہے یا نہیں۔

فی الحال پیرس میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات برقرار ہیں اور حکام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہیں۔

دوسری جامنب منتظمین کو توقع ہے کہ قانونی جنگ کے ذریعے وہ اس فیصلے کو چیلنج کر کے اجتماع کے انعقاد کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے