ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے وسطی ایران کی فضاؤں میں میں جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے ایف-35 کو مار گرایا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت عسکری کارروائیوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، حملوں کی یہ تازہ لہر دراصل جاری سلسلے کی 91ویں کڑی ہے، اس لہر میں ایرانی مسلح افواج نے مزاحمتی محاذوں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکا سے متعلق مختلف اہم اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے بیان میں کہا گیا کہ اس دوران خطے میں امریکا اور اسرائیل کی فضائیہ سے وابستہ 7 اہم اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، بحرین میں قائم ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی ادارے کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز کو بھی ہدف بنایا گیا، وسطی ایران کی فضاؤں میں امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا، یہ کارروائی مکمل طور پر ایران کی سرحدوں کے اندر انجام دی گئی اور اس میں دفاعی حکمت عملی کی مکمل منصوبہ بندی شامل تھی۔
Photo of the site where the US F‑35 jet crashed after it was shot down over central Iran.
Follow: https://t.co/mLGcUTS2ei pic.twitter.com/qnCKELV2SP
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 3, 2026
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کے حوالے سے اس وقت تک کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں، تاہم طیارے میں اچانک دھماکے کے باعث ممکن ہے کہ پائلٹ کو خود کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے یعنی ایجیکٹ ہونے کا موقع نہ مل سکا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
ماہرین دفاع اور فضائی جنگ کے تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے حادثات کی تصدیق کے بغیر کسی فوری نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس قسم کی اطلاعات اکثر تنازعہ کے دوران حکمت عملی کے تحت یا معلوماتی محاذ پر جاری کی جاتی ہیں۔
