English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یومِ دستور: صدر اور وزیراعظم کا آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام پر زور

القمر

اسلام آباد: 10 اپریل یوم دستور کی مناسبت سے صدر مملکت اور وزیراعظم نے اپنے پیغامات میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام پر زور دیا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1973 کا آئین قومی وحدت کی علامت اور ریاست کا بنیادی قانونی و سیاسی فریم ورک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین طویل مشاورت اور اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہے، جس کی متفقہ منظوری ہی اس کی اصل طاقت ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود آئین نے ریاستی تسلسل کو برقرار رکھا اور اداروں کے استحکام کی بنیاد فراہم کی۔

صدر مملکت نے ذوالفقار علی بھٹو کو آئین 1973 کا معمارِ اعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں نے آئین کا دفاع کیا، جبکہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت جمہوری نظام کی بحالی میں سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ آئین ہی عدالتوں، تعلیمی اداروں اور انتظامی ڈھانچے کو متعین کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا حقیقی تقاضا اس کے مخلصانہ نفاذ میں ہے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ عوام ہی اپنے مقدر کے اصل مالک ہیں اور آئینی نظام ہی انہیں یہ اختیار فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی نمائندگی کے ذریعے ریاستی امور میں حصہ لیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اقوام عالم میں سربلند رہتے ہوئے ترقی و خوشحالی کا سفر جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ 10 اپریل 1973 کو منظور ہونے والا آئین عوام اور ریاست کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے، جو دونوں کے حقوق و فرائض کا واضح تعین کرتا ہے اور ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئین 1973 پاکستان کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا محافظ ہے اور یہ نہ صرف ان حقوق کی وضاحت کرتا ہے بلکہ ان کے حصول کے لیے قانونی فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ آئینی دستاویز وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی روشن علامت ہے، جہاں تمام اکائیاں آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے تحت قائم ادارے ملک کے استحکام اور جمہوری تسلسل کے ضامن ہیں، جبکہ قومی یکجہتی اور اتفاقِ رائے پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان اپنی ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا اور عالمی برادری میں اپنا مقام مزید مستحکم کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے