اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نافذ العمل 13 معاہدوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی ہیں، جن میں باہمی تعاون اور تنازعات کے حل سے متعلق مختلف نکات شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت پر 13 میں سے 4 اہم معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جن میں سندھ طاس معاہدہ، مذہبی مقامات تک رسائی، زائرین اور ویزا سہولیات سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبی وسائل کی تقسیم کے لیے دونوں ممالک کے درمیان 19 ستمبر 1960 کو سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے 2 جولائی 1972 کو شملہ معاہدہ بھی کیا گیا۔
اسی طرح مذہبی مقامات کی زیارات کو آسان بنانے کے لیے 14 ستمبر 1974 کو ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے، جبکہ اسی روز دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے بعد ان معاہدوں پر عملدرآمد اور باہمی اعتماد کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
