English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کی معاشی رفتار سست، شرح نمو 3 فیصد تک محدود

القمر

عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی معیشت سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں رواں مالی سال کے لیے شرح نمو کا تخمینہ کم کر کے 3 فیصد کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ شرح حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ شیئر کیے گئے اندازوں سے نمایاں طور پر کم ہے، جس سے معاشی چیلنجز کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے اثرات نے خطے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے براہ راست اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر معیشت کے مجموعی حجم کے 1.2 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو مالیت کے لحاظ سے تقریباً 4.9 ارب ڈالر بنتا ہے۔

یہ تخمینہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اندازوں سے تقریباً 3 ارب ڈالر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تجارت میں سست روی اس خسارے میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

عالمی بینک نے اپنی اقتصادی اپڈیٹ میں واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطہ اس وقت شدید تنازعات کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث نہ صرف انسانی مسائل میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان کی شرح نمو میں 0.4 فیصد کمی کی گئی ہے اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ معیشت گزشتہ سال کی سطح کے قریب ہی برقرار رہے گی۔

حکومت پاکستان نے اس سے قبل آئی ایم ایف کو آگاہ کیا تھا کہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد صنعتی اور تعمیراتی شعبوں میں بہتری پر رکھی گئی تھی، تاہم عالمی بینک کی نئی پیشگوئی اس سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی عوامل نے ملکی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو اگرچہ حکومتی ہدف کے اندر ہے، لیکن توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل اور گیس کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو اس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں میں منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھے گا۔

مزید برآں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے خودمختار بانڈز اور امریکی بانڈز کے درمیان فرق میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح بجٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم ہو سکتا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم مستقبل میں اس میں کچھ کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے