بغداد: عراق کی پارلیمنٹ نے ایک اہم سیاسی پیش رفت میں نزارالعمیدی کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ یہ انتخاب ہفتہ 11 اپریل 2026 کو پارلیمانی ووٹنگ کے ذریعے عمل میں آیا، نزارالعمیدی نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 227 ووٹ حاصل کیے اور اپنے حریف کو شکست دی،جسے عراق کی حالیہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نو منتخب صدر امیدی سابق وزیر ماحولیات ہیں اور 2024 سے کرد سیاسی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) سے تعلق ہے، وہ عراق کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔
ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراق کو سیاسی عدم استحکام اور خطے میں بڑھتی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔بطور صدر ان کی اہم ذمہ داری نئی حکومت کی تشکیل کے لیے وزیر اعظم نامزد کرنا ہوگی۔
نزارالعمیدی کا صدر منتخب ہونا عراق کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی ہے، جو نہ صرف داخلی استحکام بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
عراق میں روایت کے مطابق صدر کا عہدہ عموماً کرد رہنما کو دیا جاتا ہے، جبکہ وزیر اعظم شیعہ اور اسپیکر سنی ہوتا ہے۔نزارالعمیدی سے قبل یہ عہدہ عبداللطیف رشید کے پاس تھا، جن کی مدت 11 اپریل 2026 کو ختم ہوئی۔
