ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کسی قسم کے اعتماد کے بغیر شریک ہو رہا ہے اور اس عمل کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکا پر اندھا اعتماد ممکن نہیں، اسی لیے ایران موجودہ مذاکراتی مرحلے میں مکمل احتیاط اور بداعتمادی کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی قیادت اپنے عوام کے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس حوالے سے کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور بنیادی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں کیے گئے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث موجودہ مذاکراتی فضا بھی شکوک و شبہات سے خالی نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار اعتماد کی بحالی اور عملی اقدامات پر ہوگا، بصورت دیگر کسی بڑی پیش رفت کی توقع محدود ہی رہے گی۔
