ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم اور حساس نوعیت کے امن مذاکرات آج ہفتے کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہیں، جبکہ ان مذاکرات میں شامل امریکی اور ایرانی وفود کے اہم ارکان کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں، جو اس سفارتی عمل کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وفد پہلے مرحلے میں اسلام آباد پہنچا، جہاں ان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات کیے گئے۔ وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو اس اعلیٰ سطحی مشاورت میں تہران کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بعد ازاں امریکی وفد بھی پاکستان پہنچا، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد ہے، جے ڈی وینس واشنگٹن کی اس قیادت سے تعلق رکھتے ہیں جو خارجہ پالیسی میں سخت گیر مؤقف اور “امریکا فرسٹ” کے نعرے کی عملی ترجمانی کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے، جبکہ انہیں ایسے رہنما کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جو طویل بیرونی جنگوں کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی قیادت اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہ بعض اوقات فوجی مداخلت کے بجائے سیاسی راستے سے تنازعات کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق اس وفد میں نائب صدر کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جبکہ وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے اعلیٰ حکام بھی وفد کا حصہ ہیں۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ سے خصوصی طور پر ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے خطے کی موجودہ صورتحال میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق ان کی قیادت کا ایک مقصد وہ داخلی اختلافات بھی کم کرنا ہے جو سابق مذاکراتی ادوار کے بعد سامنے آئے تھے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد انتہائی وسیع اور اعلیٰ سطحی ہے، جس میں 71 ارکان شامل ہیں۔ وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محمد باقر ذوالقدر، کونسل برائے دفاع کے سیکرٹری جنرل علی اکبر احمدیان اور مرکزی بینک کے سربراہ عبد الناصر ہمتی سمیت متعدد اہم سیاسی، عسکری، معاشی اور قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ علی باقری کنی، کاظم غریب آبادی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم بھی وفد کا حصہ ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وفد میں اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں میڈیا نمائندے اور پروٹوکول و سکیورٹی ٹیمیں بھی ساتھ موجود ہیں، جو اس عمل کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف میں بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ روز میں یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو صورتحال دوبارہ کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے بھی اپنے بنیادی مطالبات دہرا دیے گئے ہیں، جن میں بیرون ملک منجمد اثاثوں پر عائد پابندیاں ختم کرنا اور مختلف علاقائی محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ بندی جیسے نکات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد آج دوپہر سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد اگر ابتدائی شرائط پر پیش رفت ہوئی تو دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز سہ پہر کے وقت اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں متوقع ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں فریقین کے سخت مؤقف کے باعث ان مذاکرات کے نتائج غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔
