اسلام آباد: پاکستان کے دو بڑے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد اچانک واپس موڑ دیے گئے، جس سے کروڑوں لیٹر خام تیل کی ترسیل کا منصوبہ متاثر ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کے دونوں جہاز، شالامار اور خیرپور، دو روز قبل کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ جیسے ہی یہ جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا اور واپس خلیج عمان کی جانب موڑنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ناگزیر وجوہات کے باعث کیا گیا، اس حوالے سے سرکاری طور پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ احکامات موصول ہونے کے بعد جہازوں کے کپتان کیپٹن آصف اور کیپٹن شاہین نے جہازوں کا رخ تبدیل کرتے ہوئے انہیں واپس روانہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق ان جہازوں کو کویت اور متحدہ عرب امارات سے کروڑوں لیٹر خام تیل لوڈ کرنا تھا، موجودہ صورتحال کے باعث اب ان کی ممکنہ منزلیں فجیرا یا ینبوع سمجھی جا رہی ہیں۔
اسی دوران خطے میں جاری ایران امریکا مذاکرات کے اثرات بھی سمندری تجارتی راستوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے تازہ مذاکرات کے دوران فریقین نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور بحری نقل و حمل کو ایک اہم موضوع کے طور پر زیر بحث لایا۔
مذاکرات میں پاکستانی ثالثی کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے،امریکا اور ایران دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہو سکتی ہے۔
