جاپان دنیا بھر میں طلبہ کی خودکشیوں میں سرفہرست
ٹوکیو : جاپان طلبہ کی خودکشیوں کے حوالے سے دنیا بھر میں سرفہرست ملک بن گیا ہے
عالمی میڈیا کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے اے آئی معاونت پر مبنی مشاورتی سیشن جیسے نئے طریقے متعارف کرانے پر غور کرے گی۔ دوسری جانب گزشتہ سال خودکشیوں کی کل تعداد 19ہزار 188 تھی جو 2024 ءکے مقابلے میں 1132 کم ہے۔ مقامی میپورٹ کے مطابق وزارت صحت و بہبود نے 2025 ءمیں اسکول کے بچوں کی خودکشیوں کے حتمی اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔کہا جا تا ہے کہ جاپان میں گزشتہ سال اپنی جان لینے والے اسکول کے بچوں کی تعداد 538 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، تاہم خودکشیوں کی مجموعی تعداد اب تک کی سب سے کم سطح تک ریکارڈ کی گئی ۔جو کہ ہائی اسکول کے 356، جونیئر ہائی اسکول کے 172 اور ایلیمنٹری اسکول کے 10 بچوں نے اپنی جان لی۔ 1980 ءمیں تقابلی اعداد و شمار دستیاب ہونے کے بعدسے اسکول کے بچوں کی خودکشیوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔مذکورہ حوالے سے حیران کن بات یہ ہے کہ جونیئر ہائی اور ہائی اسکول کی طالبات کی خودکشیوں میں 2020 ءمیں اچانک اضافے کے بعد سے خودکشی کے واقعات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ موت سے پہلے تحریر، گفتگو اور رویے سے جن وجوہات اور محرکات کی نشاندہی ہوتی ہے، ان میں ڈِپریشن جیسے صحت مسائل زیادہ خود کشیوں کا سبب بن رہے ہیں۔
