بھارتی ریاست بہار کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب طویل عرصے تک اقتدار سنبھالنے والے سینئر سیاستدان نتیش کمار نے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے علیحدگی اختیار کرلی۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عطا حسین کو پیش کیا، جسے فوری طور پر منظور بھی کرلیا گیا، یوں ریاست میں نئی سیاسی صف بندی کا عمل تیز ہوگیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق نتیش کمار نے آج صبح اپنی کابینہ کے اجلاس کی صدارت آخری مرتبہ کی، جہاں انہوں نے وزراء کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کونسل آف منسٹرز تحلیل کرنے کی ہدایت دی۔ اس اجلاس کو ان کے دورِ اقتدار کے اختتام کا باقاعدہ آغاز قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑنے کا فیصلہ عملی شکل دے دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تقریباً 21 برس تک وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے نتیش کمار اب اپنی جماعت کے اہم مشاورتی اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
اس کے بعد وہ حکمراں اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جس میں بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت کی جائے گی۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے نام وزارتِ اعلیٰ کے لیے زیر غور ہیں اور سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اس بار بہار میں بی جے پی اپنی قیادت میں حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی پیش رفت ہوگی۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ نئے وزیر اعلیٰ کی تقریبِ حلف برداری کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس موقع پر شریک ہوں گے۔ یوں بہار کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
