خطے میں امن کے قیام اور حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے متوازن اور فعال کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، یہاں تک کہ بھارت کے سابق فوجی افسر بھی اس مؤثر سفارتی حکمت عملی کے معترف نظر آ رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہایت سنجیدگی اور توازن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے مکمل غیر جانبداری برقرار رکھی، جس کے باعث وہ ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے مذاکراتی عمل کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔
یشپال مور نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی قیادت کے خلاف کارروائیوں کی واضح اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی، جس سے اس کی اصولی خارجہ پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر کی جانب سے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کو بھی انہوں نے ایک ذمہ دارانہ مؤقف قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی متوازن حکمت عملی نے اسے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ سعودی عرب اور چین جیسے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات بھی اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں، جو مستقبل میں مزید استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کے باوجود ایک سابق فوجی افسر کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مؤثر اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہے بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی مزید مضبوط بناتی ہے۔
