English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ جنگ بندی کے بعد امریکا اور حماس کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات

القمر

قاہرہ: غزہ میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار امریکا اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں، جنہیں ایک نازک اور تعطل کا شکار امن معاہدے کو آگے بڑھانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ نے قاہرہ میں امریکی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت سینئر مشیر آریے لائٹ اسٹون کر رہے تھے۔ اس موقع پر امن عمل کے لیے امریکی حمایت یافتہ نمائندے نکولائی ملاڈینوف بھی موجود تھے۔

ملاقات میں خلیل الحیہ نے امریکی وفد پر زور دیا کہ اسرائیل جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد کرے، جن میں حملوں کا خاتمہ اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی شامل ہے تاکہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو سکے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی نے غزہ میں دو سالہ جنگ کو وقتی طور پر ختم کیا، خطے کے مستقبل، سیکیورٹی انتظامات اور حماس کے کردار جیسے اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق امریکا نے بنیامین نیتن یاہو سے حالیہ ملاقات میں اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے،اسرائیل نے اگلے مرحلے کے لیے حماس کے غیر مسلح ہونے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آئندہ مرحلے کے مذاکرات میں حماس کو غیر مسلح کرنے، غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کے ممکنہ انخلا جیسے نکات زیر غور ہیں،  یہ بات چیت بارہا تعطل کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ حماس پہلے مرحلے کی مکمل تکمیل سے قبل ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 765 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ حماس کا مؤقف ہے کہ مجوزہ معاہدہ غیر متوازن ہے اور اس میں فلسطینیوں کے انسانی و سیاسی حقوق کو نظرانداز کر کے صرف اسرائیلی سیکیورٹی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

حماس کے ایک سینئر رہنما نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے اور یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر تنظیم نے غیر مسلح ہونے کی شرط قبول نہ کی تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے