امریکی فوج نے ایران کے خلاف بحری ناکابندی کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے منسلک 9 جہازوں کو روکا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز یا تو واپس مڑ گئے یا متبادل راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوئے، جس سے ناکابندی کے اثرات واضح ہو رہے ہیں۔
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام جہازوں نے امریکی ہدایات پر عمل کیا اور کوئی بھی جہاز بحری نگرانی کو توڑ کر مقررہ حدود سے آگے نہیں جا سکا۔ حکام نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ناکابندی کو توڑا گیا ہے۔
تاہم بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا نے مختلف تصویر پیش کی ہے، جس کے مطابق کچھ جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نکل کر آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 3 جہاز ایک روز میں اس راستے سے گزرے جبکہ اگلے دن یہ تعداد 5 سے زائد رہی۔
اگرچہ کچھ جہاز بعد ازاں واپس مڑ گئے، لیکن اس پیش رفت نے ناکابندی کے مکمل مؤثر ہونے پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق اور سرکاری بیانات میں فرق خطے میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر اس کے اقتصادی اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
