اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کو انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت شہریوں کی نقل و حرکت محدود رہے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ اڈوں کو 10 روز کے لیے بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو 26 اپریل تک نافذ العمل رہیں گے۔ اس عرصے کے دوران جڑواں شہروں کے اندر اور باہر کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ سروس چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انتظامیہ نے دیگر اضلاع سے جڑواں شہروں میں داخل ہونے والی تمام ٹریفک کو بھی مکمل طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنا اور ممکنہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔
عوامی سہولت کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ ٹورازم سروسز اور رینٹ اے کار خدمات کو بھی عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا امکان نہ رہے۔
علاوہ ازیں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ اہم تنصیبات، حساس مقامات اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر معمولی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں۔
مذکورہ اقدامات ممکنہ سفارتی سرگرمیوں کو پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سخت فیصلے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور شہر کے پرسکون ماحول کو قائم رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں جس کے لیے شہریوں کے تعاون کی توقع کی جاتی ہے۔
یہ سیکیورٹی پلان تب تک نافذ رہے گا جب تک اعلیٰ حکام کی جانب سے نئے احکامات جاری نہیں کیے جاتے۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان 10 دن کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
