مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے، جہاں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیان نے خطے میں سفارتی اور عسکری حلقوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ آئندہ کارروائیوں کے لیے وہ امریکا کی جانب سے باضابطہ منظوری کے منتظر ہیں۔ جب بھی دوبارہ حملے شروع کیے گئے تو اس بار ایران کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً توانائی اور بجلی سے متعلق اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، جسے انہوں نے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔
ان بیانات نے خطے میں پہلے سے موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں مختلف ممالک اور بین الاقوامی مبصرین ممکنہ تصادم کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ امریکی کارروائیوں میں پانچ عرب ممالک کی سرزمین کو استعمال کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے اپنے مؤقف میں ان ممالک کا نام لیتے ہوئے کہا کہ قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت کو چاہیے کہ وہ اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔
اس سفارتی کشیدگی نے خطے میں پہلے سے موجود سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، اور عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ کسی بھی مزید پیش رفت کے وسیع علاقائی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
