پیرس: متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کو ایک طویل اور مشکل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔
فرانس میں منعقدہ ورلڈ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا کہ حالیہ تنازع کے دوران متعدد حملوں کے باعث خطے میں اعتماد کی فضا اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اگر کسی ملک پر ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے کیے جائیں تو اس کے بعد اعتماد کی بات کرنا آسان نہیں ہوتااور اس کی بحالی فوری طور پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے برسوں درکار ہوں گے۔
انور قرقاش کے مطابق حملوں میں شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے کے ممالک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، ان واقعات نے خلیجی ممالک میں یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سیکیورٹی خدشات طویل المدتی نوعیت اختیار کر چکے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں ایران اور خطے کے بعض ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران حملوں اور جوابی کارروائیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جبکہ مختلف خلیجی ممالک نے ایسے اقدامات کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
