برٹش کولمبیا: اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کینیڈا میں پیش آنے والے ایک ہولناک فائرنگ واقعے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ کمپنی کو حملہ آور کی مشتبہ آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برٹش کولمبیا کے علاقے ٹمبلر رِج میں اٹھارہ سالہ نوجوان جیسی وان نے دس فروری کو فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں اس کی والدہ، سوتیلا بھائی اور چند اسکول طلبہ بھی شامل تھے۔ واقعے کے بعد حملہ آور نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، جس سے یہ سانحہ مزید دردناک بن گیا۔
کمپنی کے مطابق حملہ آور کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ گزشتہ سال جون میں مشتبہ سرگرمیوں کے باعث معطل کر دیا گیا تھا۔ ان سرگرمیوں کو پرتشدد رجحانات سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم اس وقت کمپنی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع نہیں کیا، یہ سرگرمیاں فوری خطرے کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔
اپنے ایک خط میں سیم آلٹمین نے کہا کہ کمپنی کو اس اکاؤنٹ کی معطلی کے حوالے سے حکام کو آگاہ کرنا چاہیے تھا اور اس معاملے میں کوتاہی پر انہیں گہرا افسوس ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ای بے اور مقامی حکام نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور کمپنی سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد یہ معذرت سامنے آئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حساس معلومات کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
