تہران: پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ میں ایران کی حتمی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، خطے میں امریکا کے اتحادیوں پر دباؤ برقرار رکھنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں ایران اپنی پوزیشن مضبوط رکھ سکے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس پر کنٹرول غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایمانوئیل میکرون نے ایتھنز میں یونانی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، خدشات اور بے یقینی خود بھی سپلائی میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ عالمی برادری کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے نیوی گیشن کے لیے کھولا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں، سمندری راستوں کی آزادی عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
ایمانوئیل میکرون کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی صورتحال بتدریج معمول پر آ سکتی ہے، بصورت دیگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں خلل جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کی اپیل بھی کی۔
