تہران: ایران کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تقریباً 57 روز کی بندش کے بعد محدود پیمانے پر فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، جس سے جنگی حالات کے باعث متاثر ہونے والی فضائی سرگرمیوں کی بحالی کا عمل آغاز ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق فضائی حدود جزوی طور پر کھولنے کے بعد چند روز قبل محدود پروازوں کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اب بین الاقوامی پروازوں کی بحالی بتدریج جاری ہے، ایئرپورٹ کے مختلف ٹرمینلز میں بھی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یومیہ تقریباً ایک سو سے ڈیڑھ سو پروازیں آپریٹ کی جاتی تھیں، موجودہ صورتحال میں یہ تعداد کم ہو کر صرف دس سے پندرہ پروازوں تک محدود ہے۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کے مختلف ہوائی اڈوں اور فضائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ تہران کا مہرآباد ایئرپورٹ، جو اندرونِ ملک پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بنا جبکہ تبریز، ارومیہ اور دیگر شہروں کے ہوائی اڈوں پر بھی بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق بعض شہری طیاروں اور گراؤنڈ انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا، جس کے باعث فضائی نظام کی بحالی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے،ایئرپورٹ پر موجود مسافروں نے پروازوں کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کیا، کئی افراد نے خطے میں امن کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے۔ بعض مسافروں کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اگرچہ برقرار ہے لیکن صورتحال ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی اور دوبارہ کشیدگی کا خطرہ موجود ہے۔
