English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں محفوظ ہونے کا امکان ہے:آئی اے ای اے

القمر

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے کی موجودگی اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں متوقع ہے جبکہ دیگر اہم تنصیبات کے معائنے کی ضرورت بھی بدستور برقرار ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کی ایک قابلِ ذکر مقدار اصفہان میں واقع زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ ہو سکتی ہے، جس کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تکنیکی جانچ ناگزیر ہے، مجموعی طور پر ایران کے پاس 440 کلو گرام کے قریب 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے تقریباً 200 کلو گرام اصفہان کے مقام پر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رافیل گروسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نطنز اور فردو جیسے دیگر جوہری مراکز تک رسائی اور وہاں معائنہ بھی نہایت اہم ہے، تاکہ مجموعی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئی اے ای اے نے اس حوالے سے روس سمیت بعض دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشاورت کی ہے کہ آیا ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس عمل کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے وسیع سفارتی اور تکنیکی ہم آہنگی درکار ہوگی۔

گروسی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایجنسی کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مکمل اور مستند معلومات حاصل کی جائیں، تاکہ عالمی سطح پر پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جا سکے اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے