اسلام آباد: پاکستان سے گدھے کے گوشت کی ایکسپورٹ میں تاخیر پر چینی کمپنی نے برہم ہوکرفیکٹری بند کرنے کی دھمکی دیدی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یکم مئی 2026 کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر چینی کمپنی ہین گینگ (Hangeng) نے ایک عوامی بیان جاری کیا جس نے حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کو فعال کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے لیے تیار تھے لیکن مسلسل رکاوٹوں نے اسے ناممکن بنا دیا، غیر مارکیٹ عوامل اور آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی فیکٹری بند کرنے پر مجبور ہیں۔
چین پاکستان بی ٹو بی (B2B) فورم میں شرکت کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے پالیسیوں کے نفاذ میں فرق اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا بغور جائزہ لیں۔
چینی کمپنی کے اس سخت بیان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ متحرک ہوئے، وزیراعظم آفس نے ہنگامی ہدایات جاری کیں جس کے نتیجے میں جو فائل مہینوں سے وزارتِ خوراک، وزارتِ خزانہ اور کابینہ ڈویژن کے درمیان گھوم رہی تھی، اسے چند گھنٹوں میں منظور کرلیا گیا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلے کی وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے فوری توثیق کرائی گئی، آدھی رات تک اینیمل کوارنٹائن ڈپارٹمنٹ نے گوشت کی برآمد کا باقاعدہ اجازت نامہ جاری کردیا۔
حکومت نے اب واضح کر دیا ہے کہ گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد منزل مقصود ملک (چین) کی امپورٹ پالیسی کے مطابق سختی سے کی جائے گی۔
اس فوری ایکشن کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گرتی ہوئی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کو سہارا دینا ہے، جس میں رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران 27 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔