English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں 70 ایرانی آئل ٹینکرز کا راستہ روک دیا: مارکو روبیو

القمر

امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کا عملی کنٹرول حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی بحری موجودگی مکمل طور پر متحرک ہے اور ایرانی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، امریکی بحریہ نے ایران کے 70 ٹینکرز کی نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے جبکہ واشنگٹن تہران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اٹلی کے دورے کے دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق تجاویز پر جواب آج موصول ہونا چاہیے تھا، تاہم اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تہران سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کرے گا تاکہ کشیدگی میں کمی اور بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر بالادستی قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کیلئے نہایت اہم بحری راستہ ہے اور امریکا اس کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

مارکو روبیو نے گزشتہ روز پیش آنے والے عسکری تصادم پر بھی بات کی اور واضح کیا کہ حالیہ کارروائی کا “ایپک فیوری” نامی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، امریکی افواج پر حملے یا بین الاقوامی پانیوں میں اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا، ایران کی جانب سے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جس پر دفاعی ردعمل دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ایران کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا کیونکہ واشنگٹن کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جو امریکی بحری قوت یا اتحادی مفادات کیلئے خطرہ بنے، امریکا اپنے فوجیوں اور تنصیبات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی ذمہ دار ملک یہ نہیں چاہتا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرے، واشنگٹن اس معاملے پر عالمی سطح پر سفارتی اور تزویراتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن متاثر نہ ہو۔

لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا حزب اللہ کی مالی معاونت روکنے کیلئے سرگرم ہے اور اس حوالے سے تمام رابطے لبنانی حکومت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، واشنگٹن حزب اللہ سے براہِ راست کوئی مذاکرات نہیں کرے گا، بلکہ توجہ مکمل طور پر لبنان کی ریاستی قیادت کے ساتھ تعاون پر مرکوز ہے۔

انہوں نے جنوبی کیوبا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی امداد کی ضرورت موجود ہے مگر مقامی سطح پر امداد قبول نہیں کی جا رہی، حالانکہ امریکا مزید تعاون کیلئے تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے