اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے اس اہم پیش رفت کے لیے ثالثوں کی معاونت حاصل کر رہے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق فریقین ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ کے مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے گا جس میں پیش رفت کی صورت میں توسیع ممکن ہوگی۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یورینیم کے افزودہ ذخائر کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے جیسے حساس معاملات سرفہرست ہیں۔ ان امور پر اتفاق رائے سے خطے کے امن و استحکام میں بہتری آنے کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔
تاہم اس بات چیت میں کچھ معاملات اب بھی سنگین رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کا دائرہ کار سب سے بڑا چیلنج ہے، جس پر دونوں ممالک کے مؤقف میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ یہی مسئلہ مذاکرات کی کامیابی میں اہم ترین رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات کا پہلا دور رواں برس 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جس میں فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ اب ایک بار پھر عالمی ثالثوں کی کوششوں سے بات چیت کو دوبارہ بحال کرنے کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
اگر حالیہ مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
بین الاقوامی برادری اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق مشرق وسطیٰ کے امن اور عالمی اقتصادی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
