واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے مابین 3 روزہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
اس عارضی جنگ بندی کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور جاری خونریز تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک اہم پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ 9 ، 10 اور 11 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان تمام تر فوجی کارروائیاں مکمل طور پر معطل رہیں گی۔ اس اقدام کے تحت روس اور یوکرین ایک ایک ہزار جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے جو دونوں ملکوں کے مابین اعتماد سازی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ان کی ذاتی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔ امریکی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے امن کی اس کوشش پر نہ صرف آمادگی ظاہر کی بلکہ عملی تعاون کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ 9 مئی کا دن روس میں یوم فتح کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں سوویت یونین کی نازی جرمنی پر فتح کی یاد تازہ کی جاتی ہے، تاہم اس سال یہ دن ایک بڑے انسانی تنازع کے دوران آئے گا جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ مختصر وقفہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے مکمل خاتمے کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فریقین اب تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے قریب تر ہیں، جو عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2022 سے جاری اس جنگ میں اب تک ہزاروں عام شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ دونوں اطراف کے سیکڑوں فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ عالمی برادری اس جنگ بندی کو امن کے قیام کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہی ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی متوقع ہے۔
