مکہ مکرمہ: سعودی عرب کی پولیس نے حج 2026 کے انتظامات کو فول پروف بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے جاری کریک ڈاؤن کے دوران جعلی حج پرمٹ تیار کرنے والے 18 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ پکڑے جانے والے ملزمان میں پاکستانی اور افغان شہری شامل ہیں۔ یہ گروہ حجاج کرام کو دھوکا دینے کے لیے جعلی حج پرمٹ، نسک کارڈز اور خصوصی رسٹ بینڈز (برسلٹ) تیار کرنے کی غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی حج سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے، جس کا مقصد مقدس فریضے کے دوران کسی بھی قسم کی جعلسازی اور امن و امان کی خلاف ورزی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ حکام نے غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔
گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام نے کہا کہ تفتیش کے اگلے مراحل کے لیے انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں ان سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان کا تعین ہوگا۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ حج کے دوران کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا جعلسازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مملکت کی جانب سے حجاج کرام کی حفاظت اور انتظام کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
مذکورہ کارروائی کا مقصد غیر قانونی حج کو روکنا اور ان تمام عناصر کو قانون کی گرفت میں لانا ہے جو جعلی دستاویزات کے ذریعے نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعودی حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صرف مجاز ذرائع سے ہی حج کے امور انجام دیں۔
متعلقہ اداروں نے زور دیا ہے کہ جعلسازی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب انتظامیہ حج کے نظم و ضبط اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی اور نگرانی کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔
