روس کے لیے پاکستانی نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں انہیں انسانی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے روس لے جا کر یوکرین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر مجبور کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سرگرم ایک مبینہ انسانی اسمگلنگ گروہ نوجوانوں کو روس میں پرکشش ملازمتوں اور بھاری تنخواہوں کا لالچ دے کر بیرونِ ملک بھجواتا ہے، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد انہیں جنگی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اس معاملے پر ایف آئی اے انسدادِ انسانی اسمگلنگ راولپنڈی سرکل میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے، جبکہ حکام نے تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔
درخواست گزار منصور اختر جمال نے ایف آئی اے کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں روس میں قانونی ورک پرمٹ، محفوظ ملازمت اور ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے تنخواہ کا جھانسہ دے کر باورچی کے ویزے پر روس بھجوایا گیا۔
درخواست کے مطابق اس تمام عمل کے لیے ان کے بڑے بھائی محمود اختر جمال کے اکاؤنٹ سے تقریباً 47 لاکھ 50 ہزار روپے ایجنٹ ہشام بن طارق کو ادا کیے گئے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہشام بن طارق اور اس کے مبینہ ساتھی نوجوانوں کو روشن مستقبل اور زیادہ آمدن کا خواب دکھا کر روس بھجواتے ہیں، مگر وہاں پہنچنے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔
