English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں 2سال بعدبھی زیر التواء

القمر

کراچی: فافن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2سال گزرنے کے باوجودعام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں۔

انتخابات میں شفافیت سے متعلق قائم غیر منافع بخش ادارے فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ انتخابی ٹربیونلز نے 374 میں سے 246 انتخابی درخواستوں کا فیصلہ کیا تاہم 128 انتخابی عذداریاں تاحال زیر سماعت ہے،

قومی اسمبلی نشستوں سے متعلق 124 میں سے 73 درخواستیں نمٹائی گئیں، صوبائی اسمبلیوں سے متعلق 250 میں سے 173 درخواستیں نمٹادی گئیں، انتخابی عذارداریوں پر فیصلے کی قانونی مدت اکتوبر 2024ء میں ختم ہوگئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں انتخابی درخواستوں کے فیصلوں کی رفتار مزید سست پڑگئی، 31 جولائی 2025ء کے بعد9ماہ میں صرف 75 درخواستوں کا فیصلہ ہوا۔ بلوچستان انتخابی درخواستوں کے فیصلوں میں سرفہرست رہا جہاں 94 فیصد درخواستیں نمٹادی گئیں۔

پنجاب میں 77، خیبر پختونخوا میں 60 جبکہ سندھ میں 29 فیصد درخواستوں کا فیصلہ ہوا، اسلام آباد کی کسی نشست سے متعلق کوئی انتخابی درخواست تاحال نمٹائی نہ جاسکی، اسلام آباد میں انتخابی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق مقدمات زیر التوا ءہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ شدہ 246 میں سے 123 ٹربیونل فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا، سپریم کورٹ نے اب تک 18 انتخابی اپیلوں کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ نے انتخابی اپیلوں میں 3 منظور کیں جبکہ 15 مسترد کیں، 105 انتخابی اپیلیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں۔

فافن نے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائی کورٹ کے ٹربیونلز میں ریکارڈ تک عوامی رسائی بہتر قرار رہی، پنجاب کے ٹربیونلز میں درخواستوں کے متن اور فیصلوں تک رسائی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔2سال گزرنے کے باوجودعام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التوا ءہیں،فافن رپورٹ میں انکشاف

فافن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2سال گزرنے کے باوجودعام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں۔

انتخابات میں شفافیت سے متعلق قائم غیر منافع بخش ادارے فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ انتخابی ٹربیونلز نے 374 میں سے 246 انتخابی درخواستوں کا فیصلہ کیا تاہم 128 انتخابی عذداریاں تاحال زیر سماعت ہے،

قومی اسمبلی نشستوں سے متعلق 124 میں سے 73 درخواستیں نمٹائی گئیں، صوبائی اسمبلیوں سے متعلق 250 میں سے 173 درخواستیں نمٹادی گئیں، انتخابی عذارداریوں پر فیصلے کی قانونی مدت اکتوبر 2024ء میں ختم ہوگئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں انتخابی درخواستوں کے فیصلوں کی رفتار مزید سست پڑگئی، 31 جولائی 2025ء کے بعد9ماہ میں صرف 75 درخواستوں کا فیصلہ ہوا۔ بلوچستان انتخابی درخواستوں کے فیصلوں میں سرفہرست رہا جہاں 94 فیصد درخواستیں نمٹادی گئیں۔

پنجاب میں 77، خیبر پختونخوا میں 60 جبکہ سندھ میں 29 فیصد درخواستوں کا فیصلہ ہوا، اسلام آباد کی کسی نشست سے متعلق کوئی انتخابی درخواست تاحال نمٹائی نہ جاسکی، اسلام آباد میں انتخابی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق مقدمات زیر التوا ءہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ شدہ 246 میں سے 123 ٹربیونل فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا، سپریم کورٹ نے اب تک 18 انتخابی اپیلوں کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ نے انتخابی اپیلوں میں 3 منظور کیں جبکہ 15 مسترد کیں، 105 انتخابی اپیلیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں۔

فافن نے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائی کورٹ کے ٹربیونلز میں ریکارڈ تک عوامی رسائی بہتر قرار رہی، پنجاب کے ٹربیونلز میں درخواستوں کے متن اور فیصلوں تک رسائی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • عادل سلطان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے