English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لبنان میں اسرائیلی جارحیت تیز، 24 گھنٹوں میں 51 افراد جاں بحق

القمر

بیروت: لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 51 شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں قلاویہ اور تبنین میں قائم طبی مراکز اور ریسکیو ٹیموں کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ لبنانی وزارت صحت نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے 3 ہفتے گزر جانے کے بعد بھی اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے اب تک جاری اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 846 تک پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے دوران اب تک 103 لبنانی طبی کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ 230 کے قریب زخمی ہیں۔ عالمی ادارے نے نشاندہی کی ہے کہ طبی عملے اور امدادی گاڑیوں پر 130 سے زائد براہ راست حملے کیے جا چکے ہیں۔

صور میں سول ڈیفنس کے سربراہ علی صفی الدین نے کہا کہ امدادی ٹیمیں انتہائی کٹھن حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں ۔ ساتھیوں کی ہلاکتوں کے باوجود انسانی ہمدردی کے تحت کام جاری رکھنا ان کے لیے ایک بڑا اور مشکل چیلنج بن چکا ہے۔

جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور لبنان میں طبی مراکز کو نشانہ بنانے کا اسرائیلی طریقہ کار یکساں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی ہیلتھ ورکرز کے لیے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جس سے طبی نظام مفلوج ہو رہا ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر 12 لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان کے وسیع علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں امدادی کاموں کی رفتار مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث متاثر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے