بھارتی جریدے “دی وائر” نے ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے جشن کے پیچھے مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے تقریباً ایک کروڑ نام خارج کیے گئے جس کے باعث لاکھوں شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ تضادات کی بنیاد پر مزید 27 لاکھ شہریوں کو بھی ووٹر لسٹ سے نکالا گیا، جبکہ بعد ازاں حتمی فہرست میں تقریباً 6 لاکھ نئے ووٹرز کے اندراج پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جریدے کے مطابق اس پورے عمل نے انتخابی شفافیت پر سنگین شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
“دی وائر” نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض ریاستی سطح کے سیاسی رہنما مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں اور انتخابی سیاست میں مذہبی تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متنازع بیانات کے باعث انتخابی عمل پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
