English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا کے سب سے دور آباد جزیرے میں ہنٹا وائرس کا خدشہ، برطانوی فوج کی ہنگامی طبی کارروائی

القمر

دنیا کے سب سے دور آباد جزیرے ٹرسٹن ڈی کونہا میں ہنٹا وائرس کے مشتبہ مریض کی اطلاع کے بعد برطانوی فوج نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے فوجی ڈاکٹر، پیراٹروپرز اور طبی سامان جزیرے پر پہنچا دیا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار فوجی طیارے کے ذریعے جزیرے پر پیراشوٹ سے اترے۔ ان کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر ضروری طبی سامان بھی بھیجا گیا۔

فوجی طیارہ برطانیہ سے روانہ ہوا اور راستے میں اسینشن آئی لینڈ پر رکا، جس کے بعد تقریباً تین ہزار کلومیٹر مزید سفر کرکے ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا۔ دورانِ پرواز طیارے کو فضا میں ہی ایندھن بھی فراہم کیا گیا۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوجی طبی عملے کو پیراشوٹ کے ذریعے کسی مقام پر بھیجا گیا ہو، امداد ایک برطانوی شہری کے علاج کے لیے بھیجی گئی، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس جہاز پر ہنٹا وائرس پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متاثرہ شخص میں 28 اپریل کو وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اب اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور اسے الگ رکھا گیا ہے، جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو گئی تھی، اسی لیے فوری فضائی امداد ضروری تھی۔

ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ یہاں کوئی ائیرپورٹ موجود نہیں، اس لیے عام طور پر کشتی کے ذریعے ہی پہنچا جاتا ہے۔ جزیرے پر طبی سہولیات بھی بہت محدود ہیں اور صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود ہوتی ہے، طبی امداد اور فوجی عملے کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو حوصلہ ملا ہوگا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے