اسلام آباد: سینیٹ میں پارلیمنٹرینز اور ان کے اہلخانہ کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دینے سے متعلق ترمیمی بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک مؤقف پر نظر آئے جبکہ بل کو مزید غور کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔
ایوانِ بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 پیش کیا۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا کہ گریڈ 22 کے ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹریز، ان کی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کو پہلے ہی سرکاری بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، اس لیے سابق اراکینِ پارلیمنٹ کو بھی یہی سہولت دی جانی چاہیے تاکہ اعلیٰ ریاستی خدمات انجام دینے والوں کیلئے مراعات میں یکسانیت پیدا ہو۔
سینیٹر عبدالقادر نے اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل بھی پیش کیا، جس کے تحت تنخواہیں و الاؤنسز ایکٹ 1974 کی دفعہ 12 کی ذیلی دفعہ 4 میں ترمیم کی تجویز دی گئی اور قانون کو فوری نافذ العمل بنانے کی سفارش کی گئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگ متاثر ہوتی ہے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں سے متعلق قواعد پہلے ہی واضح ہیں۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا ماحول دیکھتے ہوئے وزیر مملکت سے کہا کہ اگر ووٹنگ کرائی گئی تو حکومت کو شکست ہوسکتی ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ بل کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا جائے، جس پر بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی نے اسلام آباد میں لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ بل اور حقِ مفت و لازمی تعلیم ترمیمی بل بھی منظور کرلیا۔
