وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی سیاسی سمت اور مستقبل کا تعین خود ان کے اپنے رویے اور فیصلوں پر منحصر ہے، اور وہ جس مقام پر آج موجود ہیں اس میں بھی ان کے اپنے طرزِ عمل کا بنیادی کردار ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سیاست کے بجائے محاذ آرائی کو زیادہ ترجیح دی، جبکہ ایک حقیقی سیاسی رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مکالمے اور جمہوری رویوں کو فروغ دے، اگر وہ خود کو سیاستدان سمجھتے ہیں تو انہیں سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی رہنما اپنے انداز اور فیصلوں سے ہی اپنی سمت متعین کرتے ہیں، اور کوئی بھی سیاسی شخصیت محض تصادم کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکتی، موجودہ صورتحال میں بانی پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل بھی ان کے اپنے فیصلوں کے اثرات سے جڑا ہوا ہے۔
افغانستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے متعدد واقعات کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں، اس لیے افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد سرگرمی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں دہشت گردی سے متعلق تربیتی نیٹ ورکس موجود ہیں جہاں سے عناصر پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں، ان خطرات کے پیشِ نظر متعدد مرتبہ ہدفی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
پارٹی امور سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس نواز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے، جس میں آئندہ انتخابات کے لیے امیدواروں اور ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات زیر غور آئے، اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو امیدواروں کی کارکردگی اور اہلیت پر مبنی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے جبکہ پارلیمانی عمل کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، سیکیورٹی سے متعلق معاملات میں زیادہ تر فیصلے سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔
محسن نقوی سے متعلق ایک سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وہ کابینہ کا حصہ ہیں اور کابینہ کے فیصلے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کے ہوتے ہیں، اگر کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو اسے متعلقہ فورم پر پیش کیا جانا چاہیے۔
