قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں مہنگائی، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال اور مجموعی سیاسی و معاشی حالات پر مشترکہ مؤقف اپنانے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی ہے۔
اپوزیشن تحریک “تحفظ آئین پاکستان” کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ میں ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، خیبرپختونخوا میں بدامنی اور دیگر قومی مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب تک پارلیمنٹ کو حقیقی طور پر طاقت کا سرچشمہ نہیں بنایا جاتا اور صوبوں کو ان کے وسائل پر مکمل اختیار نہیں ملتا، اس وقت تک ملک میں استحکام ممکن نہیں ہوگا، ملک میں روزانہ کئی افراد بدامنی اور تشدد کے واقعات میں جان کی بازی ہار رہے ہیں، مگر حکومتی سطح پر اس صورتحال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
اپوزیشن رہنما کے مطابق اپوزیشن جماعتیں آئندہ بجٹ کے حوالے سے حکومت کو سخت چیلنج دینے کے لیے ایک منظم حکمتِ عملی تیار کر رہی ہیں، مہنگائی، بدامنی اور معاشی بحران کا حل صرف پارلیمنٹ کی بالادستی میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کے حالات کی بہتری کے لیے سیاسی جماعتوں کو 18ویں آئینی ترمیم کے تحت طے شدہ اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ان فیصلوں کو چھیڑنا ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
