English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کیلئے سکیورٹی مشن میں شمولیت کا فیصلہ

القمر

آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے تشکیل دیے جانے والے کثیرالملکی دفاعی مشن میں آسٹریلیا نے بھی شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد اس مشن میں شامل ممالک کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40 ممالک پر مشتمل اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا اس مجوزہ مشن کی حمایت کرے گا اور اس کے لیے ایک جدید E-7A ویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کیا جائے گا، جو خطے میں فضائی نگرانی اور سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات کو ایرانی ڈرون حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا جا چکا ہے۔

آسٹریلوی وزیر دفاع کے مطابق یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اس کثیرالملکی کوشش کی حمایت کرتا ہے جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔

اس سے قبل برطانیہ نے بھی اسی مشن کے لیے اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کرتے ہوئے جدید خودکار مائن ہنٹنگ سسٹمز، جنگی طیارے اور بحری جہاز تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے 40 سے زائد ممالک کے وزرائے دفاع کے ورچوئل اجلاس کے بعد کہا تھا کہ یہ ایک دفاعی، خودمختار اور مربوط کثیرالملکی مشن ہوگا جو آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ نے اس مقصد کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی نئی فنڈنگ بھی مختص کی ہے، جو مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت جدید خودکار نظام سمندری بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی مشن کے تحت برطانوی بحریہ کا ’بیہائوِ‘ نظام اور تیز رفتار خودکار ’کریکن‘ ڈرون کشتیاں بھی تعینات کی جائیں گی، جو سمندری خطرات کی نگرانی اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فضائی نگرانی کے لیے ٹائفون جنگی طیارے بھی شامل کیے جا رہے ہیں، جبکہ خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی اس مشن کا حصہ ہوں گے۔

مزید برآں رائل نیوی کا جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے اور اس کے عملے کو اضافی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے