ایران کے دارالحکومت تہران اور شمالی صوبے مازندران سے ملحقہ علاقوں میں ایک ہی رات کے دوران زلزلوں کے متعدد جھٹکوں نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا، جبکہ مختلف علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل کر کھلے مقامات کی جانب دوڑتے نظر آئے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق رات بھر وقفے وقفے سے آنے والے کم از کم 9 زلزلوں کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سب سے شدید زلزلے کی شدت 4.6 بتائی گئی ہے۔ زلزلہ محسوس ہوتے ہی تہران اور قریبی شہروں میں شہری زندگی متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں سڑکوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
زلزلہ پیما مراکز کے مطابق ان جھٹکوں کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، تاہم بعض مقامی رپورٹس میں اسے 8 کلومیٹر تک بھی بتایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم گہرائی کے زلزلے عام طور پر زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں میں فوری طور پر خوف کی لہر دوڑ گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ایرانی حکام نے احتیاطی طور پر امدادی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ حساس علاقوں میں صورتحال کی نگرانی بھی جاری ہے۔
ماہرین زلزلہیات کے مطابق یہ جھٹکے تہران کے قریب واقع “موشا فالٹ” کے آس پاس محسوس کیے گئے، جسے ایران کے انتہائی فعال اور خطرناک زلزلہ زونز میں شمار کیا جاتا ہے۔ معروف زلزلہ شناس مہدی زارع نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی رات میں مسلسل زلزلوں کا آنا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ جھٹکے زمین کے اندر جمع توانائی کے بتدریج اخراج کا نتیجہ ہیں یا کسی بڑے زلزلے سے قبل ابتدائی علامتیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران جیسے گنجان آباد شہر میں صرف قدرتی خطرات ہی نہیں بلکہ کمزور انفرااسٹرکچر اور محدود ہنگامی تیاری بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ تہران ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے جو متعدد فعال فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے، جن میں شمالی تہران، موشا اور رے فالٹس شامل ہیں۔ ماہرین ماضی میں بھی متعدد بار اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر اس خطے میں بڑا زلزلہ آیا تو اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلہ خیز سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔ 2003 میں بم شہر میں آنے والے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس میں 30 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
