واشنگٹن: امریکی حکومت نے بھارت کی ایک آن لائن فارمیسی کمپنی سے وابستہ 13افراد پر ویزا پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو خطرناک منشیاتی مادے فینٹانائل پر مشتمل جعلی ادویات فروخت کر رہے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ممبئی میں قائم کے ایس انٹرنیشنل ٹریڈرز اور اس کے مالک کے قریبی ساتھیوں پر لگائی گئی ہیں۔ یہ کمپنی آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے جعلی نسخہ جاتی گولیاں امریکی شہریوں کو فروخت کرنے میں ملوث پائی گئی تھی۔
Today, @StateDept is taking steps to impose visa restrictions on 13 individuals associated with KS International Traders and its owner, which has sold counterfeit prescriptions laced with illicit fentanyl to unsuspecting Americans in our country.
— Tommy Pigott (@statedeptspox) May 12, 2026
واضح رہے کہ فینٹانائل ایک انتہائی طاقتور مصنوعی اوپیئڈ دوا ہے جو طبی مقاصد کے لیے درد کش کے طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم امریکا میں اس کے غیر قانونی استعمال اور اسمگلنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جو کہ ایک سنگین قومی بحران ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس پگٹ نے کہا کہ غیر قانونی فینٹانائل سے بڑی تعداد میں امریکی شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی افراد امریکی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور انہیں زہر فراہم کرنے میں ملوث ہوں گے انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تحقیقات کے مطابق کے ایس انٹرنیشنل ٹریڈرز کی ویب سائٹ کو اب مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور کمپنی کے عہدیداروں سے رابطہ ممکن نہیں رہا۔ کمپنی مبینہ طور پر فینٹانائل کی اسمگلنگ کے ذریعے بھاری رقوم بٹور رہی تھی اور غیر قانونی کاروبار کو فروغ دے رہی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی فینٹانائل کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دے چکے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس کمپنی کے خلاف کارروائی کی گئی ہو، کیونکہ گزشتہ برس بھی اسی کمپنی اور 2بھارتی شہریوں پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
.@POTUS: “So we designated fentanyl a weapon of mass destruction [and] conducted numerous successful military strikes against narco terrorists operating in our hemisphere.” pic.twitter.com/3VeMtUQdhP
— Department of State (@StateDept) January 21, 2026
امریکی حکام نے تصدیق کی کہ اس کمپنی نے امریکا میں لاکھوں کی تعداد میں جعلی گولیاں فروخت کیں جس سے کئی خاندان اور کمیونٹیز شدید متاثر ہوئیں۔ امریکا کی جانب سے فینٹانائل کی اسمگلنگ روکنے کے لیے حال ہی میں نئی ویزا پالیسی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
